سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا
چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے یوسف کی طرح میں خواب دیکھا کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اس کے لیے یاں خراب دیکھا دل تو نے عبث لکھا تھا نامہ جو ان نے دیا جواب دیکھا بے جرم و گناہ قتل عاشق مذہب میں ترے صواب دیکھا کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحت ہستی میں تو ہم عذاب دیکھا جس چشم نے مجھ طرف نظر کی اس چشم کو میں پر آب دیکھا حیران وہ تیرے عشق میں ہے یاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کا سوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ معدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میں آتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر آئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگ ہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست خاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکے جوں خضر مت کہائیو آب بقا پرست سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیے اے خود پرست حیف نہیں تو وفا پرست