محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے یوسف کی طرح میں خواب دیکھا کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اس کے لیے یاں خراب دیکھا دل تو نے عبث لکھا تھا نامہ جو ان نے دیا جواب دیکھا بے جرم و گناہ قتل عاشق مذہب میں ترے صواب دیکھا کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحت ہستی میں تو ہم عذاب دیکھا جس چشم نے مجھ طرف نظر کی اس چشم کو میں پر آب دیکھا حیران وہ تیرے عشق میں ہے یاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کا سوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا

— محمد رفیع سودا

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ معدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میں آتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر آئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگ ہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست خاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکے جوں خضر مت کہائیو آب بقا پرست سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیے اے خود پرست حیف نہیں تو وفا پرست

— محمد رفیع سودا